ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ہیگڈے کے خلاف زبان نہ کھولنے والے منکال وئیدیا نے اپنے ہی کابینہ ساتھی کو کہا؛" ان کا دماغ ٹھکانے پر نہیں ہے" (کراولی منجاؤ کی خصوصی رپورٹ)

ہیگڈے کے خلاف زبان نہ کھولنے والے منکال وئیدیا نے اپنے ہی کابینہ ساتھی کو کہا؛" ان کا دماغ ٹھکانے پر نہیں ہے" (کراولی منجاؤ کی خصوصی رپورٹ)

Sun, 28 Jan 2024 20:17:43    S.O. News Service

بھٹکل :29؍جنوری  (ایس اؤ نیوز ) ریاست کے وزیر اعلیٰ ،مظلوم و  پسماندہ طبقات کے عوامی لیڈر سدرامیا کو’’بیٹے ‘‘ کہہ کر مخاطب کرکے اُن کی  ہتک کرنے والے  اُترکنڑا کے  رکن پارلیمان آننت کمار ہیگڈے کے خلاف ضلع اُترکنڑا کے انچارج وزیر منکال وئیدیا  اپنی زبان کھولنے کے لئے تیار نہیں ہیں مگر اپنے ہی کابینہ کے ساتھی  کے خلاف  بیان دینے  میں تاخیر نہیں کررہے ہیں، اس بات کو لے کر  ضلع کے معروف کنڑا روزنامہ کراولی منجاو نے  سوالات کھڑے کئے ہیں۔

ایودھیا میں رام مندر کے افتتاح کے موقع پر  اننت کمار ہیگڈے نے بھٹکل کے چن پٹن شری ہنومنتا مندر پہنچ کر شری رام ہنومنت  کا آشیرواد لیا تھا اور شری رام سے  اپنے لئے تحفظ کی پرارتھنا کی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ  اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ایم پی اننت کمار ہیگڈے کو شری رام  اور شری ہنومنت کا آشروادملے گا یا  نہیں ملے گا،البتہ  یہ بات سچ   ہے کہ   ایم پی اننت کمارہیگڈے کو اُن ہی  کے طبقہ سے تعلق رکھنےو الے پجاری کا آشیرواد، پیار، محبت سب کچھ ملا ہوگا ۔لیکن معاملہ یہ نہیں ہے۔ سیاسی لکشمن کی  ریکھا پھلانگ کر بیان بازی کرنے کے باوجودایم پی اننت کمارہیگڈے کے خلاف ضلع کے باہر والے کانگریسی لیڈران  دانت پیس رہے ہیں، لیکن ایک طرف   اترکنڑا ضلع کے سنئیر کانگریسی لیڈر اور سابق ضلعی انچارج وزیر دیش پانڈے لب کھولنے تیار نہیں ہیں تو حالیہ ضلع  نگراں کار وزیر  منکال وئیدیا بھی خاموش ہیں اور ان  کا رویہ  خود ان کی پارٹی کانگریس کے اندر ہی  بے اطمینانی کی کیفیت کوجنم دے رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق  منکال وئیدیا  2023کے ودھان سبھا انتخابات کے 5-6مہینے پہلے ہی  بدل گئے تھے۔ 2018کے ودھان سبھاانتخابات کےد وران ایم پی اننت کمارہیگڈے کےحامیوں نے سوشیل میڈیا پر جس طرح منکال وئیدیا کےخلاف بے تحاشہ  اوربے تکی لفاظی کاا ستعمال کیاتھا  وہی لوگ 2023 کے ودھان سبھا انتخابات قریب آتے آتے  اپنی ہی پارٹی کے رکن اسمبلی سنیل نائک کے خلاف وہی کام کرتے ہوئے دیکھے گئے تھے ۔غالباً اننت کمارہیگڈے کےحامیوں کی ہی کرامت تھی کہ منکال وئیدیا 2023کے انتخابات میں آزاد امیدوار کے طورپر انتخابات لڑنے جیسی افواہیں بڑے زور و شور سے پھیلا ئی گئیں تھیں۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ چونکہ بھٹکل ہوناور حلقہ میں اقلیتوں کے ووٹ زیادہ ہیں، منکال وئیدیا نے  اننت کمارہیگڈے کے حامیوں سے تعلقات بحال رکھتے ہوئے  کانگریس سے بھی  ناطہ جوڑے رکھا اور تیس ہزار ووٹوں سے جیت گئے۔جیت کے خمار میں مست  منکال وئیدیانےآرایس ایس لیڈر کے گھر کے صحن میں بیٹھ کر مبارکبادی کا قبول کرنا تاریخ کا حصہ ہے۔

اب 2024لوک سبھا کے انتحابات سرپر ہیں۔ ایم پی اننت کمارہیگڈے پھر ایک بار اپنے لئے ٹکٹ حاصل کرنے کی خاطر بہت ہی متحرک اور سرگرم ہیں۔ اب اننت کمارکے حامی منکال وئیدیا کو  گذشتہ ودھان سبھا انتخابات کا احسان یاد دلاتے ہوئے اندرونی طورپر ان کی  قوت کو اننت کمارہیگڈے کو ٹکٹ دلانے اور اُنہیں جیت درج کرانے  کےلئے استعمال کرنے میں سرگرم ہوگئے  ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کی باتیں اب سننے میں آرہی ہے کہ  منکال وئیدیا چاہتے ہیں کہ  لوک سبھا انتخابات کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لینے کے بجائے سنئیر لیڈر دیش پانڈے کو سونپ  دیں اور اپنے  ہاتھوں کو صاف ستھرے رکھیں۔ اس دوران کانگریس کے وزیر اور پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھنےو الے راجنّا نے ایک پروگرام میں پرانے ایودھیا کی تصویر اورحالات کو لے کر بیان دیا تو اُسے  منصوبہ بند سازش کے طورپر  توڑمروڑ کر میڈیا میں پیش کیا گیا اور راجنّا کے بیان کے متعلق افواہیں پھیلائی گئیں کہ راجنا نے  شری رام کی بے عزتی کی ہے۔ اس بے بنیاد افواہ پر کان دھرتے ہوئے وزیر منکال وئیدیا نے بھی  جلد بازی میں بیان دے  ڈالاکہ ’شری رام کےخلاف کوئی بھی بات کرتاہے تو سمجھ لیجئے کہ اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ وزیر منکال وئیدیا نے اتنی سی کوشش بھی نہیں کی کہ آخر وزیر راجنّا نے کیا کہا تھا۔ ٹمکور کے راجنّا کو جانے دیجئے ، وہ تو بہت دور کی بات ہے۔خود  وزیر منکال وئیدیا کےحلقہ بھٹکل میں ہی بھگوان کے لئے گُڑیا، منت دینے کا رواج عام ہے ۔ گُڑیا کو بھگوان کہنےوالے  اور گُڑیا میں بھگوان کو دیکھنے والے مذہبی لوگوں کی باتوں میں غلط تلاش کرنے کی ہمت کسی میں نہیں ہے۔ لیکن وزیر منکال وئیدیا نے  وزیر راجنّا کی باتوں میں جرم ڈھونڈ نکالا۔ چلئے یہ معاملہ ان کاہے۔ کیونکہ منکال وئیدیا کے خلاف ہنگامہ آرائی کے لئے  اترکنڑا ضلع میں راجنّا کے نہ ابھیمانی ہیں اور نہ والمیکی طبقہ کےووٹرس ہیں۔ اور منکال وئیدیا کا گمان بھی  یہی ہوگا کہ آخر راجنّا  کے خلاف بات کی جائے تو کوئی آسمان ٹوٹ پڑنے والا نہیں ہے ۔

منکا ل وئیدیا کی اس چال کے پیچھے بھی ایک سیاست ہے۔ بی جےپی ہر جگہ کہہ رہی  ہے کہ سبھی کانگریسی شری رام کے مخالف ہیں۔ ممکن ہے  اس کا کاؤنٹر کرنے کےلئے منکال وئیدیا نے وزیر راجنّا کے خلاف بیان دیا ہو۔ اس کےعلاوہ ایک سوچ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ انہیں کے پی سی سی کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کی تائید و حمایت  حاصل ہے تو پھر سدرامیا کی خیمہ میں رہنے سے کچھ فائدہ نہیں ہے۔ وہیں یہ زعم بھی ہوگا کہ وزیر اعلیٰ سدرامیا ،کُرُبا طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور  اترکنڑا ضلع میں کُرُبا کے کوئی خاص ووٹرس نہیں ہیں وہیں سدرامیا کو گالی دینے والوں کو گالی نہیں دیں گے تو اعلیٰ ذات کےلوگ ان کے سرپر ہاتھ پھیرکر آشیرواد دینے کا خیال بھی ان کے دماغ میں ہوگا۔ اسی لئے مظلوم وپسماندہ طبقہ کے لیڈر سدرامیا کی ہتک کرنے والے اننت کمارہیگڈے کے خلاف سدرامیا کی کابینہ کے وزیر بالکل خاموش ہیں اور شری رام کے بہانے وزیرا علیٰ کے قریبی وزیر راجنّا کے خلاف فوری پلٹ وار  کیا ہے۔ مجموعی طورپر وزیر منکال وئیدیا کی خواہش یہ ہوسکتی ہے کہ وہ  ضلع کے اعلیٰ طبقہ  اورپروہتوں کے  پسندیدہ خادم بنیں۔ اگر اچانک پسماندہ طبقہ کے لوگ منکال وئیدیا سے ناراض ہوجاتےہیں توان کی حفاظت کے لئے ایک راستہ بنارہے۔   ضلع کے ایک پسماندہ طبقہ کے طاقتور سوامی کے پیچھے چھپنے کےلئے ان کے لئے تھوڑی سی جگہ خالی ہے۔

منکال کی باتیں ،مسکے سے بال نکالنےجیسی ہیں:ضلع نگراں کاروزیر منکال وئیدیا نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ اگر میں ایم پی اننت کمار ہیگڈے کے متعلق  کچھ بات کروں گا  تو سیاست ہوگی۔ عوامی نمائندوں کو عوام ہی منتخب کرتےہیں ، مزید دو مہینے انتظار کیجئے، مرکز میں بھی ہماری حکومت بنے گی اسی لئے آپ بھی ہماری حمایت کریں ‘۔

جمعرات کو ڈی سی دفتر کے باہر سی آئی ٹی یو کی قیادت میں جمع ہوئےاحتجاجیوں سے میمورنڈم قبول کرنے  کے دوران سی آئی ٹی یو کی لیڈر یمونا گاؤنکر نے جب کہاکہ ’’سر، ہم لوگ پچھلے تین دنوں سے یہاں احتجاج کررہے ہیں ، لیکن ایم پی صاحب ایک دن بھی ہماری فریاد  سننے نہیں آئے۔ ایم پی کے دفتر پر تالا لگا ہوا ہے۔ ان کا پرسنل سکریٹری بھی نہیں  ہے۔  لہٰذا ایم پی کا دفتر کھول کر ایک معاون کو نامزد کریں تاکہ وہ ہمارا میمورنڈم لے سکے‘‘۔ یمونا گاؤنکر کی باتیں سننے کے بعد منکال وئیدیا نےکہاکہ  ریاستی سطح پر جو مسائل حل  ہو سکتےہیں اس تعلق سے میں وزیراعلیٰ سےبات کروں گا۔ اب آپ اپنا احتجاج ختم کریں ۔ ایم پی کو منتخب کرنےکے لئے تمہیں دو مہینے کے بعد موقع ملے گا۔ تب آپ اپنے تمام مسائل کا حل تلاش کرنے والے ایم پی کو منتخب کریں۔


Share: